
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تہران: ایران میں جاری جنگی صورتحال کے درمیان سکیورٹی اداروں نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 90 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں مختلف صوبوں میں حالیہ دنوں کے دوران کی گئیں اور یہ کارروائی ابھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ ایک بیرون ملک نشریاتی نیٹ ورک سے وابستہ تھے، جسے ایرانی حکام طویل عرصے سے ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے آئے ہیں۔ حکام نے اس نیٹ ورک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ایسے عناصر کا خاتمہ ہے جو جنگی حالات میں “نفسیاتی دباؤ” اور اطلاعاتی جنگ کے ذریعے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیوں کو روکنا قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اس نیٹ ورک کو اسرائیل اور امریکہ سے منسلک ایک میڈیا پلیٹ فارم قرار دیتا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے خلاف بیانیہ بنانے اور معلوماتی جنگ میں کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور اس معاملے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور دونوں جانب سے فوجی و معلوماتی محاذوں پر سرگرمیاں جاری ہیں۔
کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ممکنہ جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے لیے بعض شرائط میں اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کو بھی شامل کیا ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں صرف میدانِ جنگ ہی نہیں بلکہ اطلاعات اور میڈیا کا محاذ بھی انتہائی اہم ہوتا ہے، جہاں بیانیہ سازی اور عوامی رائے کو متاثر کرنا ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں حالیہ گرفتاریاں اسی وسیع تر “اطلاعاتی جنگ” کا حصہ ہیں، جہاں حکومتیں اندرونی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات اور ردعمل بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔



