تازہ ترینعالمی خبریںیورپ امریکا

ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں سے پریشان دنیا، نئے اتحادوں کی تلاش تیز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع خارجہ اور تجارتی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ متعدد ممالک اب پرانے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر نئے معاشی اور سکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ واشنگٹن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف خطوں میں غیر معمولی سفارتی روابط دیکھنے میں آئے ہیں۔ ایشیا پیسیفک سے لے کر یورپ تک حکومتیں اپنی خارجہ حکمتِ عملی میں تنوع پیدا کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن آف کینیڈا کی نائب صدر وینا نجیب اللہ کے مطابق بیشتر امریکی اتحادی امریکا سے مکمل علیحدگی نہیں چاہتے، لیکن وہ “یو ایس پلس” حکمتِ عملی اپنانا چاہتے ہیں تاکہ خطرات کم کیے جا سکیں۔

یورپی یونین بھی اسی سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین آسٹریلیا کے دورے پر جا رہی ہیں، جہاں تجارت اور سکیورٹی سے متعلق ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے قبل یورپی یونین برطانیہ، کینیڈا، بھارت اور لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی روابط کو وسعت دے چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے عالمی تجارتی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہر رابرٹ روگوسکی کے مطابق دنیا کی درمیانی طاقتیں اب زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے بقول کئی ممالک کے لیے معاشی استحکام قومی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے، اس لیے وہ کسی ایک طاقت پر انحصار کم کرنے کی حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں۔

کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے حال ہی میں ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے دوران چھوٹے اور درمیانے ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ گزشتہ ماہ کارنی تقریباً ایک دہائی بعد چین کے دورے پر بھی گئے، جسے دو طرفہ تعلقات کی بحالی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں روایتی اتحاد ازسرِ نو ترتیب پا سکتے ہیں۔ اگر واشنگٹن کی پالیسیوں میں غیر یقینی برقرار رہی تو دنیا میں علاقائی اتحادوں اور کثیرالجہتی تعاون کا رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button