
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل میں دو الگ الگ جاسوسی کیسز نے سکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا ہے، جہاں حکام کے مطابق کچھ افراد ایران سے مبینہ روابط کے ذریعے حساس سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جن میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے اور خفیہ معلومات فراہم کرنے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اشکلون اور یروشلم میں سامنے آنے والے ان کیسز کی تحقیقات جاری ہیں، جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے شبہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ملزمان نے ایرانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے مختلف نوعیت کی خدمات انجام دیں۔ اشکلون میں جاری تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ بعض مشتبہ افراد نے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد تیار کرنے اور اس پر تجربات کرنے کی کوشش کی۔
تاہم اس حساس کیس پر مکمل تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئیں اور عدالت کی جانب سے جزوی پابندیاں برقرار ہیں، جس کے باعث ملزمان کی شناخت اور سرگرمیوں کی مکمل نوعیت خفیہ رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب یروشلم میں ایک 21 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ایرانی خفیہ اہلکار کے رابطے میں آیا اور اس کے کہنے پر اسرائیل کے مختلف مقامات کی تصاویر اور معلومات جمع کرتا رہا۔ حکام کے مطابق اسے اس کام کے بدلے کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی بھی کی جاتی رہی۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرتی کرنے کی کوششوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر مالی فائدے کے لالچ میں افراد کو پہلے معمولی معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ انہیں حساس اور خطرناک سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں درجنوں افراد پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے، جبکہ درجنوں ایسے کیسز بھی ناکام بنائے گئے جن میں بیرونی عناصر مقامی افراد کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ کیس اس رجحان کی ایک مزید سنگین مثال ہے، جہاں مبینہ طور پر صرف معلومات اکٹھی کرنے تک محدود رہنے کے بجائے عملی کارروائیوں، جیسے دھماکہ خیز مواد کی تیاری، کی کوشش کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری کشیدگی کے ماحول میں اس طرح کے واقعات نہ صرف اندرونی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید جنگ میں سائبر اور انسانی نیٹ ورکس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ خفیہ سرگرمیوں اور نیٹ ورکنگ کے ذریعے بھی ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔



