ایرانتازہ ترین

ایران بمباری کے باوجود افزودہ یورینیم تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکتا ہے.

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )واشنگٹن / تہران — امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ ایران اس افزودہ یورینیم تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکتا ہے جو گزشتہ سال امریکی حملوں کے بعد ایک جوہری تنصیب کے نیچے دفن ہو گیا تھا۔ یہ یورینیم ایران کے شہر اصفہان میں واقع ایک اہم جوہری مقام کے زیرِ زمین حصے میں موجود بتایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران یا کوئی اور فریق ایک تنگ راستے کے ذریعے اس یورینیم تک پہنچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ایران کتنی تیزی سے اس مواد کو منتقل یا استعمال کرنے کے قابل ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ یورینیم گیس کی شکل میں مخصوص کنٹینرز میں محفوظ کیا گیا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس ادارے اس مقام کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور حکام کے مطابق اگر یورینیم کو منتقل کرنے یا استعمال کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اسے بروقت پکڑا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا افزودہ یورینیم کسی بھی ممکنہ جوہری پروگرام کے لیے اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 970 پاؤنڈ افزودہ یورینیم موجود ہو سکتا ہے جسے تقریباً 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جوہری ہتھیار بنانے کے لیے عام طور پر 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے، تاہم اگر سینٹری فیوج مشینیں فعال ہوں تو اس سطح تک پہنچنا نسبتاً تیزی سے ممکن ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا کہ آیا امریکہ اس یورینیم کو محفوظ بنانے کے لیے زمینی فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اس وقت ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنے پر توجہ دے رہا ہے اور مستقبل میں حالات کے مطابق مزید فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو زمین کے اندر منتقل کرنا بھی ان عوامل میں شامل تھا جنہوں نے اسرائیل کو سخت فوجی کارروائی پر آمادہ کیا۔ ان کے مطابق زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس یورینیم تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہوتی ہے۔

دفاعی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور اس پر امریکہ، اسرائیل اور دیگر عالمی طاقتوں کی نظر مسلسل برقرار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button