
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اپنی حکمت عملی بناتے وقت عراق کی جنگوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی کی جنگیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ کسی بھی بڑے فوجی تنازع کا خاتمہ صرف میدانِ جنگ میں کامیابی کے اعلان سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد کے حالات بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو کامیابی قرار دے سکتے ہیں، تاہم حقیقی صورتحال کا اندازہ زمینی حالات اور خطے میں طویل المدتی استحکام سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی کچھ فوجی صلاحیتوں، خاص طور پر جوہری تنصیبات، میزائل پروگرام اور بحری اثاثوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کی عسکری طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس کی سیاسی، سماجی اور علاقائی حکمت عملی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔
عراق کی جنگ کی مثال دیتے ہوئے ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 2003 میں امریکہ نے عراق میں فوجی برتری حاصل کرنے کے باوجود کئی سال تک جاری رہنے والی شورش، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کیا۔ اس لیے ایران کے معاملے میں بھی یہ سوال اہم ہے کہ اگر جنگ ختم ہوتی ہے تو اس کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال کیا شکل اختیار کرے گی۔

دفاعی مبصرین کے مطابق ایران ایک بڑا اور پیچیدہ ملک ہے جس کی جغرافیائی، سیاسی اور سماجی ساخت عراق سے مختلف ہے۔ اس لیے کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی توانائی منڈی بھی اس تنازع سے متاثر ہو رہی ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں اور تجارتی راستوں کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنگیں شروع کرنا نسبتاً آسان جبکہ انہیں کامیابی کے ساتھ ختم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کے معاملے میں فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سفارتی راستوں اور سیاسی حل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو سکتا ہے کہ آیا موجودہ جنگ محدود فوجی کارروائیوں تک رہتی ہے یا پھر یہ ایک طویل اور وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔



