ایران کا واضح پیغام: جوہری معاہدہ ممکن، مگر جنگ کی صورت میں ردعمل سخت ہوگا

تہران / واشنگٹن — ایران نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے حتمی مرحلے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا جنگ مسلط کیے جانے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان ایک فیصلہ کن معاہدہ ممکن ہے، بشرطیکہ یہ معاہدہ منصفانہ ہو اور دونوں فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن دباؤ یا دھمکی کی بنیاد پر کوئی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں جنگ کا آغاز ہوا تو اس میں متعدد ممالک اور فریق شامل ہو سکتے ہیں، جس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسی کسی بھی صورتحال کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، ایران کی مسلح افواج سو فیصد تیار ہیں، تاہم تہران کی ترجیح جنگ نہیں بلکہ سفارتی حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت کو فوقیت دی ہے، مگر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایران نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر 400 کلوگرام سے تجاوز کر چکے ہیں، جو ماہرین کے مطابق ایران کو مذاکرات میں ایک مضبوط پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ افزودگی مکمل طور پر سویلین اور پرامن مقاصد کے لیے ہے اور ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ادھر اسرائیل نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر اعتماد کرنے میں احتیاط برتی جائے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب نے واشنگٹن پر دباؤ بڑھایا ہے کہ کسی ایسے معاہدے سے گریز کیا جائے جو ایران کے جوہری یا میزائل پروگرام کو مکمل طور پر محدود نہ کرے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلیٰ عسکری اور انٹیلی جنس حکام کے ساتھ مشاورت کی ہے۔

دوسری جانب امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی فوری فوجی کارروائی کا امکان کم ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق پینٹاگون اس وقت خطے میں دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں اتحادیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اسی دوران ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ میں آ کر اپنی دفاعی یا جوہری صلاحیتوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرے گا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل اور تدبر کا مظاہرہ نہ کیا تو خطہ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔



