امریکاتازہ ترین

ایف بی آئی الرٹ: ایران کیلیفورنیا پر ڈرون حملے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے کیلیفورنیا کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو ایک ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے جس میں ایران کی جانب سے امریکی ریاست کیلیفورنیا پر ممکنہ ڈرون حملے کے خدشے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع ایک خفیہ میمو میں سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایران ممکنہ طور پر امریکی سرزمین کے قریب سمندر سے ڈرون حملہ کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لے رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی کو فروری کے اوائل میں ایسی انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئیں جن میں اشارہ دیا گیا کہ ایران کسی نامعلوم جہاز یا بحری پلیٹ فارم سے بغیر پائلٹ طیارے (UAVs) لانچ کر کے کیلیفورنیا میں نامعلوم اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ہدف، وقت یا حملے کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ایف بی آئی کے انتباہ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے تو تہران ممکنہ طور پر جوابی کارروائی کے طور پر امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر ریاستی اور مقامی پولیس اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کے پاس “شاہد-136” جیسے خودکش ڈرون موجود ہیں جو طویل فاصلے تک پرواز کر سکتے ہیں اور ماضی میں مختلف جنگی محاذوں پر استعمال کیے جا چکے ہیں۔ ایسے ڈرون کم لاگت مگر مؤثر حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور جدید جنگ میں انہیں اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیلیفورنیا میں ایرانی نژاد امریکیوں اور حکومت مخالف ایرانیوں کی بڑی تعداد رہتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اگر کسی حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تو اس کا ممکنہ ہدف کیا ہو سکتا تھا۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے بھی اس انتباہ کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون خطرات پر حکام پہلے ہی توجہ دے رہے ہیں اور ریاستی ادارے اس معاملے پر ریاستی آپریشن سینٹر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کسی مخصوص مقام یا حملے کے وقت کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور تہران متعدد بار امریکہ کو براہِ راست جواب دینے کی دھمکیاں دے چکا ہے۔

سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کے انتباہات اکثر احتیاطی بنیادوں پر جاری کیے جاتے ہیں، تاہم موجودہ عالمی صورتحال میں ڈرون حملوں کا خطرہ سکیورٹی اداروں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے، جس کے باعث امریکہ سمیت کئی ممالک اپنے فضائی دفاع اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button