ایرانتازہ ترین

ایران کی بڑی شرط، مذاکرات میں جے ڈی وینس کی شمولیت پر زور، امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ سامنے آگیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ مذاکرات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں تہران نے واضح طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران موجودہ امریکی نمائندوں پر مکمل اعتماد نہیں رکھتا اور اسی وجہ سے وہ اعلیٰ سطح پر براہِ راست بات چیت کا خواہاں ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کو امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر شدید تحفظات ہیں۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اعتماد کو نقصان پہنچا، جس کے باعث اب وہ انہی شخصیات کے ساتھ دوبارہ بات چیت سے گریز کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران کی نظر میں جے ڈی وینس ایک نسبتاً متوازن اور جنگ کے خاتمے کے خواہاں رہنما کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

ادھر واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم کا حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی کریں گے، تاہم امریکی صدر خود یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وینس مستقبل میں مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پسِ منظر میں امریکا نے ایران کو ایک جامع 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر پابندی، اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادی گروپوں سے لاتعلقی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں عالمی تجارت کے لیے آزادانہ راستہ فراہم کرنے کی شرط بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

اس کے بدلے امریکا نے ایران کو معاشی پابندیوں میں مکمل نرمی، سول جوہری پروگرام میں تعاون اور عالمی سطح پر معاشی بحالی کے مواقع دینے کی پیشکش کی ہے، جو تہران کے لیے ایک اہم ترغیب سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ کچھ سفارتی حلقے اس بات پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا یہ مذاکرات واقعی طے پا سکیں گے یا نہیں، کیونکہ دونوں جانب اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے اعلان کے باوجود، اطلاعات کے مطابق حملے جاری رہے، جس کے جواب میں ایران نے بیلسٹک میزائل داغے۔ اس صورتحال نے امن کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

علاقائی سیاست بھی اس معاملے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت امریکا پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایران کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھے، جبکہ اسرائیل بھی اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا انعقاد ممکن تو ہے، لیکن کسی بڑے اور فوری معاہدے کی توقع کم دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اگر دونوں فریقین لچک کا مظاہرہ کریں تو یہ بات چیت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

ادھر عالمی منڈیوں نے ممکنہ جنگ بندی کی خبروں پر مثبت ردعمل دیا ہے، جہاں اسٹاک مارکیٹس میں تیزی اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس تنازع کے اثرات گہرے ہیں۔

موجودہ حالات میں تمام نظریں ممکنہ مذاکرات پر مرکوز ہیں، جو نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button