
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف واشنگٹن جنگ بندی کے معاہدے کی بات کر رہا ہے تو دوسری جانب تہران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت "بے حد شدت سے معاہدہ کرنا چاہتی ہے”، تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فی الحال کسی قسم کے براہ راست مذاکرات زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق ایران صرف امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ پیغامات کا تبادلہ مختلف ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔
یہ متضاد بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تقریباً چار ہفتوں سے جاری اس تنازع کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی متاثر ہونے سے دنیا بھر میں ایندھن کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ابتدائی طور پر جنگ بندی کی امید پر عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری آئی تھی، لیکن غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث یہ رجحان برقرار نہ رہ سکا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے، خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو اس کے انسانی اور معاشی اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

میدان جنگ میں بھی حالات کشیدہ ہیں۔ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں حملوں کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ایرانی خطرات کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال "نہ جنگ نہ امن” کی کیفیت اختیار کر چکی ہے، جہاں بیک ڈور سفارتکاری جاری ہے لیکن کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ثالثی کے ذریعے رابطے جاری رہے تو آئندہ دنوں میں کسی محدود نوعیت کی جنگ بندی ممکن ہو سکتی ہے، تاہم مکمل معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے۔
یہ تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے، اور دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتکاری اس بحران کو روک پائے گی یا نہیں۔


