
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے ابتدائی دنوں میں کویت میں ہونے والا ایک ایرانی ڈرون حملہ پہلے اندازوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے میں متعدد امریکی فوجی شدید زخمی ہوئے جن میں دماغی چوٹیں، جلنے کے زخم اور دھماکے کے ٹکڑے لگنے جیسے سنگین زخم شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ حملہ یکم مارچ کی صبح کویت سٹی کے قریب شعیبہ بندرگاہ پر قائم امریکی فوج کے ایک ٹیکٹیکل آپریشن سینٹر پر کیا گیا تھا۔ حملے کے بعد عمارت میں دھواں بھر گیا جس کے باعث اندر موجود اہلکاروں کو نکالنا انتہائی مشکل ہو گیا اور ریسکیو کارروائیوں میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں۔
ذرائع کے مطابق حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے بعض کو شدید دماغی چوٹ، یادداشت متاثر ہونے اور دھماکے کے اثرات کے باعث فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔
رپورٹس کے مطابق 30 سے زائد زخمی امریکی فوجی اب بھی مختلف فوجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ان میں ایک فوجی ٹیکساس کے بروک آرمی میڈیکل سینٹر میں، 12 اہلکار والٹر ریڈ ملٹری میڈیکل سینٹر (واشنگٹن کے قریب) اور تقریباً 25 زخمی جرمنی کے لینڈسٹول ریجنل میڈیکل سینٹر میں علاج کروا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی فوجیوں میں سے تقریباً 20 اہلکاروں کو C-17 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کے ذریعے جرمنی منتقل کیا گیا جن کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ ان میں دماغی چوٹ، شدید جھٹکوں اور یادداشت متاثر ہونے کے کیسز شامل ہیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے جرمنی میں 100 سے زائد طبی ماہرین اور طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر امریکی محکمہ دفاع نے حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد واضح نہیں کی تھی اور صرف یہ کہا تھا کہ چند فوجی شدید زخمی اور کچھ معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوا کہ حملہ کافی زیادہ شدید تھا۔
امریکی دفاعی حکام کے مطابق حملے کے بعد دو فوجی کچھ وقت کے لیے لاپتہ بھی ہو گئے تھے جنہیں بعد میں ملبے کے نیچے سے نکال لیا گیا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید فضائی دفاعی نظام اکثر حملوں کو ناکام بنا دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات کوئی میزائل یا ڈرون دفاعی حصار عبور کر کے ہدف تک پہنچ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نقصان ہو سکتا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر زخمی معمولی نوعیت کے تھے اور ان میں سے 108 فوجی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں جبکہ چند شدید زخمیوں کا علاج جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کویت میں ہونے والا یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ڈرون اور میزائل نظام خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس طرح کے حملوں کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔



