ایرانتازہ ترین

ایران کی نئی حکمت عملی: فوجی محاذ کے بعد معاشی دباؤ کا کھیل شروع؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں ماہرین کے مطابق ایران اب براہِ راست فوجی مقابلے کے بجائے معاشی اور تزویراتی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

تجزیاتی رپورٹس کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں ایران کو فوجی سطح پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ متعدد اہم تنصیبات، بشمول جوہری مراکز اور دفاعی نظام، شدید حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو بھی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود صورتحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئے انداز میں سامنے آ رہی ہے۔

آبنائے ہرمز: ایران کا آخری کارڈ؟

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ بیان نے خطے میں تشویش بڑھا دی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز "کھلی ہے، لیکن ہمارے دشمنوں کے لیے نہیں”۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان محض سفارتی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایران عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو بطور دباؤ استعمال کر سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اگر یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر فوری پڑ سکتے ہیں۔

تیل کی قیمتیں اور عالمی اثرات

حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو مہنگائی میں مزید اضافہ اور عالمی معیشت کی رفتار میں کمی آ سکتی ہے۔

بعض تجزیوں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز ایک ماہ کے لیے بھی متاثر ہوئی تو عالمی کساد بازاری کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

خلیجی ممالک کے لیے پیغام

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا اصل ہدف امریکہ یا اسرائیل سے زیادہ خلیجی ممالک ہیں، جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر۔ پیغام واضح ہے: اگر یہ ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو ان کی معیشت اور تیل کی برآمدات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ایران اس حکمت عملی کے ذریعے خطے میں اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ فوجی میدان میں ہونے والے نقصان کا ازالہ سیاسی اور معاشی سطح پر کیا جا سکے۔

امریکہ کی پالیسی اور سوالات

دوسری جانب امریکہ نے وقتی طور پر تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے، تاکہ عالمی منڈی میں استحکام رہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایک عارضی حل ہے اور طویل مدت میں اس سے ایران کو مزید گنجائش مل سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر واضح اور مضبوط حکمت عملی نہ اپنائیں تو مستقبل میں دیگر خطوں، جیسے بحیرہ جنوبی چین یا بحیرہ اسود، میں بھی اسی نوعیت کے دباؤ کے حربے استعمال ہو سکتے ہیں۔

آگے کیا؟

ماہرین کے مطابق جنگ کا یہ نیا مرحلہ زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں بندوقوں کے بجائے معیشت، توانائی اور عالمی تجارت کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی اتحاد اس چیلنج کا مقابلہ اسی مضبوطی سے کر پائے گا جیسا کہ فوجی میدان میں کیا گیا تھا؟

فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے، مگر ایک بات واضح ہے کہ یہ تنازع اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت تک پھیل چکا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button