ایرانتازہ ترین

ایران کا نیا عسکری اشارہ، ایک ٹن وارہیڈ والے میزائل استعمال کرنے کا اعلان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران Iran نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ میزائل حملوں میں ایک ٹن یا اس سے زیادہ وزنی وارہیڈ استعمال کیے جائیں گے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی تباہ کن صلاحیت بڑھانے اور مخالفین کے خلاف طاقتور دفاعی پیغام دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر Majid Mousavi نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور دشمن کے خلاف حملوں کا سلسلہ رکے گا نہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں فائر کیے جانے والے میزائلوں کے وارہیڈ کا وزن کم از کم ایک ٹن ہوگا اور حملوں کی شدت اور رفتار میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران طویل عرصے سے اپنی عسکری حکمت عملی میں بیلسٹک میزائلوں کو مرکزی حیثیت دیتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس فضائی طاقت کے میدان میں United States اور Israel جیسی برتری نہیں، اس لیے وہ میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے طاقت کا توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

فوجی ماہرین کے مطابق ایران کی نئی حکمت عملی تین اہم پہلوؤں پر مبنی ہو سکتی ہے۔
پہلا، میزائل وارہیڈ کے وزن میں اضافہ جس سے دھماکے کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
دوسرا، دھماکے کی نوعیت میں تبدیلی جیسے کہ کلسٹر یا فریگمنٹیشن وارہیڈ جو زیادہ وسیع علاقے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اور تیسرا، میزائلوں کی درستگی میں اضافہ تاکہ حساس اہداف کو زیادہ مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں پاسدارانِ انقلاب نے ایک نئی میزائل لہر کے دوران بھاری وارہیڈ والے میزائل داغنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے تناظر میں ایران کی طرف سے ایک مضبوط عسکری پیغام ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ حالیہ فضائی حملوں میں ایران کے فوجی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ تاہم بعض دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے میزائل ذخائر اور ان کی اصل صلاحیت کا درست اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران بھاری وارہیڈ والے میزائلوں کا استعمال بڑھاتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button