ایرانتازہ ترین

ایران کے خلیجی توانائی مراکز پر حملے، امریکی ایف-35 گرانے کا دعویٰ،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے 35ویں دن خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں ایران نے کویت اور متحدہ عرب امارات میں توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اور امریکی ایف-35 طیارہ مار گرانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق Kuwait میں ایک پاور اور ڈیسالینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ مینا الاحمدی آئل ریفائنری کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد صورتحال کو کنٹرول میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اسی طرح United Arab Emirates کے ابو ظہبی میں حبشان گیس کمپلیکس کے قریب گرنے والے ملبے کے باعث آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں، جس سے توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی فوج، خصوصاً Islamic Revolutionary Guard Corps نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور امریکی F-35 fighter jet کو ایران کے وسطی علاقے میں مار گرایا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مرحلے میں بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے ایک اہم پل پر حملے کا دعویٰ بھی سامنے آ چکا ہے۔

اسرائیل نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل حملوں سے گاڑیوں، گھروں اور ریلوے اسٹیشن کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ خطے کے مختلف ممالک اس کشیدگی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات سامنے آ رہے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایندھن کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

دلچسپ طور پر، آبنائے ہرمز کے ذریعے یورپ جانے والے بحری جہازوں کی محدود نقل و حرکت جاری ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں ایندھن کی فراہمی کے خدشات کے باعث عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کے مراکز پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ اب براہ راست معاشی اہداف تک پھیل چکا ہے، جس کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button