(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے ترکی کی جانب سے ایران کے حق میں اظہارِ یکجہتی اور حالیہ حملوں کی مذمت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حمایت خطے میں استحکام کے لیے اہم ہے۔
ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق صدر پیزشکیان نے Recep Tayyip Erdoğan کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ ترکی نے نہ صرف ایران پر حملوں کی مذمت کی بلکہ ترک عوام نے بھی ایران کے ساتھ قابلِ ذکر یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جس پر تہران اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
پیزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کو لبنان سمیت پورے خطے تک پھیلایا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی میں حقیقی کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس کی کارروائیاں خطے میں مزید تنازعات کو ہوا دے رہی ہیں، اور کہا کہ اسلامی ممالک کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کے خلاف متحد ہونا چاہیے جو خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اور اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ خطے میں جاری حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، خاص طور پر لبنان جیسے حساس علاقوں میں۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ ایران نے جنگ بندی کو علاقائی استحکام برقرار رکھنے اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قبول کیا ہے، تاہم اس کے تسلسل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں پر سنجیدگی سے عمل کریں۔
ماہرین کے مطابق ایران اور ترکی کے درمیان اس نوعیت کی سفارتی رابطہ کاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کے اہم ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔