(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی تو اسرائیل کے اہم ڈیمونا جوہری مرکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ایک ایرانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے نیم سرکاری خبر ایجنسی نے جاری کیا ہے۔
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو کمزور کرنا اور اسے ممکنہ جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔
ڈیمونا جوہری مرکز کیوں اہم ہے؟
اسرائیل کے جنوبی علاقے نیگیو میں واقع شمعون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کو عموماً اسرائیل کے ممکنہ جوہری پروگرام کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل باضابطہ طور پر نہ تو جوہری ہتھیار رکھنے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی اس کی تردید کرتا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیمونا اس پروگرام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ تنصیب اسرائیل کی سب سے زیادہ محفوظ تنصیبات میں شمار ہوتی ہے جہاں متعدد فضائی دفاعی نظام تعینات ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی منصوبہ
دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران اس اہم سمندری راستے کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
جنگ اور ممکنہ سیاسی تبدیلی
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جاری فوجی مہم کے بعد ایران کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ایران کے مقتول سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ممکنہ طور پر قیادت کے امیدواروں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ادھر ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے بھی جاری ہیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی کے باوجود ایران کی جوہری تنصیبات میں تابکاری کے اخراج کا کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔



