ایران نے زیرِ زمین میزائل شہروں کی نمائش کر دی، جنگی حکمتِ عملی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا اعلان

ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کا طاقتور مظاہرہ کرتے ہوئے زیرِ زمین قائم میزائل اڈوں، جنہیں حکام ’’میزائل شہر‘‘ قرار دے رہے ہیں، منظرِ عام پر لا دیا ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ہمراہ ان خفیہ تنصیبات کا دورہ کیا، جہاں جدید بیلسٹک میزائل نظام بھی پیش کیے گئے۔
اس موقع پر ایران کے طاقتور بیلسٹک میزائل خرمشہر-4 کو بھی دکھایا گیا، جسے ایرانی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ میزائل طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے اور جدید دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آرمی چیف عبدالرحیم موسوی نے کہا کہ حالیہ بارہ روزہ جنگ کے تجربے کے بعد ایران کا نظریۂ جنگ تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اب ایران کی عسکری حکمتِ عملی صرف دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ ’’اقدامی دفاع‘‘ (Offensive Deterrence) کو اپنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایران کو کسی ممکنہ حملے کی اطلاع ملے گی، فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا تاکہ دشمن کو ابتدا ہی میں روکا جا سکے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق زیرِ زمین میزائل شہروں کی مکمل ویڈیوز جاری کرنے کی تیاری تھی، تاہم حساس سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ فوٹیج منظرِ عام پر نہیں لائی گئی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس مختلف اقسام کے درجن سے زائد بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جو اس کی دفاعی صلاحیت کو خطے میں نمایاں بناتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل کی جانب 500 سے زائد میزائل داغے تھے، جسے وہ اپنی میزائل طاقت کا عملی ثبوت قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایران کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کو پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے نزدیک اصل دہشت گرد وہ طاقتیں ہیں جو خود دوسروں پر دہشت گردی کے الزامات لگاتی ہیں۔
اسی تناظر میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر کمانڈر کے مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر جنگ مسلط کرتا ہے تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔ ان کے مطابق ردِعمل صرف ایک یا دو اڈوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین میزائل شہروں کی نمائش اور سخت بیانات ایک واضح پیغام ہیں کہ ایران اپنی عسکری طاقت اور جارحانہ دفاعی صلاحیت کو کھل کر سامنے لانا چاہتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے، اور کسی بھی غلط اندازے کے نتائج پورے خطے کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔



