
مسقط — سلطنتِ عمان میں ایران اور امریکا کے درمیان نئے دور کے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، ایسے وقت میں جب سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ خطے میں فوجی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ ایران ماضی کے تجربات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بات چیت کر رہا ہے، تاہم وہ اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار نہیں ہو گا۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران سفارتکاری کو ایک موقع دینا چاہتا ہے، مگر جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی پالیسیوں پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے بھی معاہدوں کی پاسداری کر چکا ہے، مگر وعدے پورے نہ ہونے کے تجربات نے تہران کو محتاط بنا دیا ہے۔

دوسری جانب الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے سامنے ایک نیا مطالبہ بھی رکھا ہے، جس کے تحت تہران سے کہا جا رہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون محدود یا ختم کرے۔ یہ مطالبہ جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکی شرائط کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے مذاکرات کی راہ مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

امریکی سیاسی حلقوں میں بھی ان مذاکرات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے مذاکرات کر کے صرف وقت ضائع کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ترکی، عمان یا قطر کہیں بھی ہونے والی بات چیت سے کوئی ٹھوس نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں، کیونکہ ایران بنیادی مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔

ادھر سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی محاذ پر بھی غیر معمولی سرگرمی رپورٹ ہو رہی ہے۔ تازہ اوپن سورس رپورٹس کے مطابق فضائی دفاعی نظام لے جانے والی پروازیں رات بھر مشرقِ وسطیٰ پہنچتی رہیں، جبکہ کچھ نئی پروازیں ٹیکساس سے یورپ روانہ ہوئیں۔ 23 جنوری کے بعد سے اب تک ایسی کم از کم 50 پروازیں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن میں سے 10 تاحال پرواز میں ہیں اور ان کی حتمی منزل ظاہر نہیں کی گئی۔ گزشتہ سال اسی نوعیت کی منتقلی کے لیے تقریباً 115 پروازیں ہوئیں تھیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دوہری حکمتِ عملی—یعنی مذاکرات کے ساتھ فوجی تیاری—اس بات کی علامت ہے کہ امریکا دباؤ اور سفارتکاری کو بیک وقت استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران بھی واضح کر رہا ہے کہ وہ مذاکرات کرے گا، مگر کسی بھی صورت اپنے بنیادی دفاعی اور تزویراتی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق مسقط مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اگر فریقین اپنے مؤقف میں لچک نہ دکھا سکے تو یہ بات چیت محض وقتی وقفہ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت کسی بھی وقت صورتحال کو زیادہ سنگین رخ دے سکتی ہے۔



