امریکاتازہ ترین

ایران جنگ دوسرے ہفتے میں داخل، ٹرمپ کے سخت بیانات سے تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ تقریباً دو ہفتوں کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس دوران امریکی صدر Donald Trump کے سخت بیانات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں ایران کی قیادت کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکا ایرانی حکومت کو شدید فوجی دباؤ میں لا چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کے پاس بے مثال فوجی طاقت اور وسیع اسلحہ موجود ہے اور ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ جنگ فروری کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور Israel نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے Iran کے فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد سے دونوں اطراف سے میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ جاری ہے جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اب تک اس جنگ میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے۔ جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے بھی ایران کی نئی قیادت کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ دوسری جانب ایران کی نئی قیادت نے حملوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ “شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق جاری جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button