ایرانتازہ ترین

ایران جنگ چھٹا ہفتہ، ٹرمپ کی نئی ڈیڈ لائن

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک جانب فوجی کارروائیاں شدت اختیار کر رہی ہیں تو دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک نئی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے، بصورت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے منگل کی شام تک کا وقت مقرر کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک جنگ کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جاتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ ایرانی حکام نے بھی جوابی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے، جس سے تصادم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اسی دوران ایک اہم پیش رفت میں امریکی فوج نے ایران میں گرنے والے اپنے جنگی طیارے کے زخمی اہلکار کو ایک پیچیدہ اور خفیہ آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا۔ حکام کے مطابق یہ اہلکار ایک دن سے زائد عرصے تک گرفتاری سے بچتے ہوئے دشوار گزار علاقوں میں چھپا رہا، جبکہ اس کی بازیابی کے لیے سینکڑوں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کی۔

میدانِ جنگ میں بھی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک کمسن بچی بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1400 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسرائیل کے بعض حلقے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن میں سرحدی علاقوں کی مکمل تباہی اور آبادی کی منتقلی شامل ہے۔

ادھر اسرائیل کے شہر حیفا میں ایک میزائل حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے اور کئی لاپتہ ہیں، جبکہ یروشلم میں رات کے وقت میزائلوں کی پرواز کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران کے قریب بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں رہائشی عمارتیں نشانہ بنی ہیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں، جبکہ انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

مزید برآں، عراق میں ایران سے منسلک گروہوں نے امریکی سفارتی مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جس سے تنازعہ کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ادھر پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ عمان ایران کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے جبکہ پاکستان اور مصر دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی غلط فیصلے یا اچانک اقدام سے خطہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔ عالمی معیشت پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین میں عدم استحکام کے باعث۔

مجموعی طور پر آئندہ چند دن انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یا مشرق وسطیٰ ایک بڑے اور طویل تنازعے کی طرف بڑھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button