ایرانتازہ ترین

ایران جنگ سے چین کو سفارتی برتری، ٹرمپ-شی ملاقات سے قبل بیجنگ مضبوط پوزیشن میں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، اور ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے چین کو نمایاں سفارتی اور اسٹریٹجک فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات، جو مارچ کے آخر میں ہونا تھی، ایران جنگ کے باعث چھ ہفتوں کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔ اس تاخیر نے چین کو ایک اہم موقع فراہم کیا ہے کہ وہ خود کو ایک مستحکم اور کم دباؤ والے فریق کے طور پر پیش کرے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکہ کی توجہ مکمل طور پر مشرق وسطیٰ پر مرکوز ہے، جس کے باعث اس کی فوجی اور سفارتی صلاحیتیں دیگر خطوں، خاص طور پر انڈو پیسیفک، سے ہٹ رہی ہیں۔ یہ صورتحال چین کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اسے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کے لیے وقت اور موقع مل رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بیجنگ نے جان بوجھ کر ایران جنگ میں کھل کر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا اور پس منظر میں رہ کر حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت چین نہ صرف خود کو تنازع سے دور رکھ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک متوازن اور محتاط طاقت کے طور پر بھی سامنے آ رہا ہے۔

دوسری جانب چین اس جنگ کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، جہاں وہ امریکی فوجی حکمت عملی، اقتصادی دباؤ اور جنگی ردعمل کا قریب سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات مستقبل میں تائیوان جیسے حساس معاملات میں چین کی منصوبہ بندی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

مزید برآں، چین نے حالیہ عرصے میں نایاب معدنیات (ریئر ارتھ) کی برآمدات پر کنٹرول بڑھا کر امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی اپنی صلاحیت بھی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام نے واضح کیا ہے کہ چین اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط معاشی اور اسٹریٹجک پوزیشن میں ہے۔

ادھر عالمی توانائی صورتحال میں بھی چین نسبتاً محفوظ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے تیل کے ذخائر بڑھا رکھے ہیں اور متبادل توانائی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود چین فوری طور پر کسی بحران کا شکار نظر نہیں آتا۔

مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ ایران جنگ نے عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جہاں امریکہ وقتی طور پر دباؤ میں ہے جبکہ چین خاموشی سے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کا ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button