
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرنا ہوگی۔ تہران کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اس اہم بحری گزرگاہ کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی ایران کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ خطے کی سلامتی براہ راست ایران کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایران خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے طویل ساحلی علاقوں کی وجہ سے اس اہم بحری راستے کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی حکمت عملی جاری رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر اس اہم سمندری راستے کی صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ Strait of Hormuz دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں نے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے جس کے باعث جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ اس راستے کو مکمل طور پر غیر محفوظ نہیں بنانا چاہتا بلکہ جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس اہم گزرگاہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



