
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے ایران سے متعلق جاری جنگی صورتحال کو ایک “تعطل” (Stalemate) قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے اس تنازع کا حل ممکن نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ابتدائی کامیابیوں کے بعد جنگ ایک طویل اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔
باراک کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکہ نے مختلف جنگوں میں وقتی کامیابیاں ضرور حاصل کیں، لیکن انہیں طویل المدتی اسٹریٹیجک کامیابی میں تبدیل نہیں کر سکا۔ انہوں نے ویتنام، عراق اور افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی برتری کے باوجود یہ جنگیں پیچیدہ اور طویل تنازعات میں تبدیل ہو گئیں۔
انہوں نے خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے مکمل طور پر فوجی کارروائی کے ذریعے ختم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار کو صرف فضائی حملوں یا محدود آپریشنز سے ختم نہیں کیا جا سکتا، جو اس مسئلے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

باراک نے کہا کہ موجودہ جنگ بھی اسی طرز پر آگے بڑھ رہی ہے، جہاں ابتدائی فوجی کامیابیاں اب ایک طویل تعطل میں بدل رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر واضح حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو یہ تنازع یا تو طویل مذاکرات میں الجھ سکتا ہے یا پھر ایسے نتائج دے سکتا ہے جو فریقین کے لیے غیر سازگار ہوں۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خطے میں حماس اور حزب اللہ جیسے گروہوں کی مسلسل موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف فوجی دباؤ سے مکمل کنٹرول حاصل کرنا مشکل ہے، کیونکہ یہ گروہ مختلف شکلوں میں دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔
باراک نے سیاسی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے مقاصد اور نتائج کے بارے میں شفافیت کی کمی عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے، جس سے فیصلہ سازی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کے خاتمے کے لیے واضح منصوبہ بندی نہ کی گئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، اور تنازع ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے جہاں اسے ختم کرنا مزید مشکل ہو جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں پر کنٹرول اور بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی اس جنگ کو مزید طول دے سکتی ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارتکاری، معیشت اور عالمی سیاست کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں، اور ان کا حل بھی صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی ہونا ضروری ہے۔



