
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں اب امریکی فوج مہنگے اور پیچیدہ میزائلوں کے بجائے نسبتاً سادہ مگر بھاری بموں کا زیادہ استعمال کرے گی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکی اور اتحادی حملوں کے بعد ایران کے فضائی دفاعی نظام کو بڑی حد تک کمزور قرار دیا گیا۔
ہیگستھ نے واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی فوج اب 500 پاؤنڈ، 1000 پاؤنڈ اور 2000 پاؤنڈ وزن کے جی پی ایس اور لیزر گائیڈڈ بم استعمال کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ایسے بموں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے اور فضائی برتری حاصل ہونے کے بعد انہیں استعمال کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
دفاعی حکام کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکہ نے زیادہ تر کروز میزائل اور مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے تھے، جو بحری جہازوں یا زمینی لانچرز سے داغے جاتے ہیں۔ یہ ہتھیار زیادہ مہنگے اور پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن ان کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پائلٹوں کو دشمن کے فضائی دفاع کے قریب جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
تاہم امریکی میڈیا کی بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری حملوں کے دوران امریکہ نے بڑی مقدار میں پریسیژن گائیڈڈ ہتھیار استعمال کر لیے ہیں، جس کے باعث ان کے ذخائر پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کم لاگت والے مگر طاقتور بموں کے استعمال پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خطے میں موجود امریکی اتحادی ممالک کو بھی دفاعی چیلنجز کا سامنا ہے۔ خلیجی ممالک ایران کے جوابی ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے کے لیے مہنگے فضائی دفاعی میزائل استعمال کر رہے ہیں، جس سے ان کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان ممالک نے امریکہ سے مزید میزائل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں مہنگے اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ کم لاگت ہتھیاروں کی حکمت عملی بھی اہم ہوتی جا رہی ہے۔ ایران بھی مبینہ طور پر مہنگے بیلسٹک میزائلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے نسبتاً سستے شاہد ڈرونز زیادہ استعمال کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں دونوں فریق اپنے ہتھیاروں کے ذخائر اور جنگی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے فیصلے کر رہے ہیں، جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔



