
تہران/دبئی (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سے منسلک ٹی وی چینل ‘افق’ (Ofogh TV) نے متحدہ عرب امارات (UAE) کو شدید دھمکیاں دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، تو ایران کا جوابی وار براہِ راست یو اے ای پر ہوگا۔
ایرانی میڈیا نے یو اے ای کو "امریکہ کی 51 ویں ریاست" قرار دیتے ہوئے دبئی کے ان حساس مقامات کی فہرست بھی جاری کر دی ہے جو ایرانی میزائلوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

"یہ امارات نہیں، ‘امریکی امارات’ ہے”
ایرانی ٹی وی کی نشریات میں جاری ہونے والے بیان میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا:
"ہم اماراتی عوام یا اماراتی حکومت کی بات نہیں کر رہے، ہم اس ‘امریکی امارات’ کی بات کر رہے ہیں جو امریکہ کا گڑھ بن چکا ہے۔ ہاں! یو اے ای درحقیقت امریکہ کی 51 ویں ریاست ہے، اس لیے اگر ہم پر حملہ ہوا تو ان کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔”
ایران کے 5 بڑے اہداف: فہرست جاری
ایرانی اسٹیٹ براڈکاسٹنگ نے دبئی کے جن مقامات کو ہٹ لسٹ (Hit List) پر رکھا ہے، ان کی تفصیلات اور وجوہات کچھ یوں بیان کی گئی ہیں:
دبئی انٹرنیٹ سٹی (Dubai Internet City): ایرانی رپورٹ کے مطابق یہ مقام امریکی ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔ یہاں گوگل (Google)، میٹا (فیس بک)، آئی بی ایم (IBM) اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں جو اسے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

دبئی ایئرپورٹ فری زون (DAFZA): ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس علاقے میں موجود 280 فائیو سٹار اور فور سٹار ہوٹلوں میں سے تقریباً 240 ہوٹل امریکیوں کی ملکیت ہیں، لہذا یہ امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے اہم ٹارگٹ ہے۔
دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC): ایرانی میڈیا نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اسے "دنیا میں امریکی منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا مرکز” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہاں امریکی سرمایہ کاری کا بڑا حجم موجود ہے۔
- جبل علی زون (Jebel Ali Zone): یہ دبئی کی معاشی شہ رگ ہے۔ ایرانی رپورٹ کے مطابق یہاں بڑی امریکی تیل، گیس اور ٹرانسپورٹیشن کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دبئی سلیکون اویسس (Dubai Silicon Oasis): یہاں بڑی امریکی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیاں آپریٹ کر رہی ہیں، جو ایران کے ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل ہے۔

تجزیہ: تجارتی مراکز کو خطرہ
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے پہلی بار اتنی تفصیل کے ساتھ تجارتی اور سویلین انفراسٹرکچر کی نشاندہی کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران روایتی جنگ کے بجائے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو "معاشی طور پر اپاہج” کرنے کی حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔ دبئی، جو کہ خطے کا سب سے بڑا تجارتی اور سیاحتی حب ہے، کے لیے ایسی دھمکیاں براہِ راست اس کی سرمایہ کاری اور سٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
پس منظر: واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور تہران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ جو ممالک امریکہ کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے، وہ بھی جنگ کا حصہ سمجھے جائیں گے۔



