ایرانتازہ ترین

ایران کا ٹرمپ کے محل پر حملے کا انتباہ اور یورپی افواج کو ‘دہشت گرد’ قرار دینے کا اعلان

(تازہ حالات رپورٹ )

عالمی نیوز ڈیسک — مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران نے امریکہ اور یورپی یونین کے خلاف اپنا مؤقف مزید سخت کرتے ہوئے نہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی وارننگ جاری کی ہے، بلکہ جوابی کارروائی کے طور پر یورپی یونین کی افواج کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

ٹرمپ کے ‘محل’ پر حملے کی دھمکی اسرائیلی اخبار ‘یروشلم پوسٹ’ کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ایک سرکردہ ایرانی رکن پارلیمنٹ نے امریکہ کو براہِ راست اور سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر جنگ چھڑتی ہے یا امریکہ کی جانب سے ایران پر کوئی حملہ کیا جاتا ہے، تو ایران کا جوابی وار صرف مشرق وسطیٰ کے خطے تک محدود نہیں رہے گا۔ رکن پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ اس وسیع تر ردعمل کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘اپنے محل’ (یعنی مار-اے-لاگو ریزورٹ) کو بھی براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ دھمکی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ امریکی جارحیت کا جواب عالمی سطح پر اور براہِ راست امریکی سرزمین پر دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

"ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی جنگی جوابی کارروائی کا دائرہ مشرق وسطیٰ سے آگے تک بڑھا سکتا ہے اور کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘اپنے محل’ کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ | رپورٹ”

یورپی یونین کی افواج ‘دہشت گرد’ قرار دوسری جانب، سفارتی محاذ پر بھی ایران نے یورپ کے خلاف ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر ایک باضابطہ اور تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔ 19 فروری 2026 کو جاری ہونے والے اس سرکاری اعلامیے میں ایران نے یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے یورپی یونین کے اس اقدام کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے کیونکہ پاسدارانِ انقلاب ملک کی سرکاری مسلح افواج کا ایک بنیادی اور اہم حصہ ہے۔ ‘جیسے کو تیسا’ (Tit-for-Tat) کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، ایران نے 2019 کے اپنے ایک ملکی قانون (جس کے تحت امریکی سینٹکام کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا) کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اب سے یورپی یونین کے رکن ممالک کی تمام بری، بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد’ تنظیمیں تصور کرے گا۔

عالمی اثرات اور تجزیہ بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے یہ تازہ ترین بیانات خطے میں پہلے سے موجود بارود کے ڈھیر کو چنگاری دکھانے کے مترادف ہیں۔ ایک طرف یورپ کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات نچلی ترین سطح پر آ گئے ہیں، تو دوسری جانب امریکہ کو دی جانے والی براہ راست دھمکیوں نے عالمی امن کے لیے نئے اور سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا معمولی سی فوجی جھڑپ ایک بڑے عالمی تنازعے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button