امریکاتازہ ترین

ایران جنگ پر کنٹرول مشکل، ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے لیے تنازعہ ختم کرنا آسان نہیں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اسے جلد ختم کرنا آسان نہیں رہا۔ بعض ماہرین کے مطابق جنگ کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ صرف امریکی صدر کے فیصلے سے اس کا اختتام ممکن نہیں ہوگا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اپنے اہداف کے قریب پہنچ چکی ہیں، لیکن حقیقت میں جنگ کے خاتمے کا فیصلہ صرف واشنگٹن کے ہاتھ میں نہیں رہا۔ ایران، اسرائیل اور خطے میں موجود دیگر طاقتیں بھی اس تنازعے کی سمت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی واضح کیا ہے کہ جنگ کے اختتام کا فیصلہ ان کی حکمت عملی کے مطابق ہوگا۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے کی صورتحال اور آئندہ کی طاقت کا توازن اب ایران کی مسلح افواج کے اقدامات سے طے ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے صرف جنگ میں زندہ رہنا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر اثر ڈالنا بھی ایک بڑی کامیابی سمجھی جا سکتی ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جس نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

ادھر اسرائیل بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایران کی فوجی اور میزائل صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق زیرِ زمین میزائل لانچرز اور ذخائر کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

اسی دوران لبنان میں بھی صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے جہاں ایران کے اتحادی گروہ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں جنوبی لبنان اور بیروت کے بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مختلف فریقوں کے مقاصد ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایران طویل جنگ کے ذریعے دباؤ بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل ایران کی دفاعی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ کمزور کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ اسی طرح جاری رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور عالمی سفارتکاری پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں جنگ کے اختتام کا وقت اور طریقہ کار ابھی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button