
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بدھ کے روز خلیج کے پانیوں میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کے اہلکاروں نے ان جہازوں پر فائرنگ کی کیونکہ وہ ان کے جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد خلیج میں تجارتی جہازرانی اور عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے رکن ممالک کو اپنی اسٹریٹجک تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل جاری کرنے کی تجویز دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا کو 1970 کی دہائی کے بعد کے سب سے بڑے تیل بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو تقریباً دو ہفتے ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر ایرانی اور لبنانی شہری شامل ہیں۔

یہ تنازع اب ایران کی سرحدوں سے نکل کر خطے کے دیگر ممالک تک پھیل چکا ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ امریکی اور اسرائیلی افواج بھی مسلسل فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ جنگ جاری رکھے گا اور فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مشن مکمل نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن قبل از وقت جنگ ختم نہیں کرنا چاہتا۔
ادھر عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ شپنگ کمپنیوں اور توانائی اداروں کو خلیج میں نقل و حمل کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور مہنگائی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



