ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز بند رہے گی، اسرائیلی گیس فیلڈز بھی نشانے پر آ سکتی ہیں: ایران

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے اعلان کیا ہے کہ خلیج کے اہم آبی راستے آبنائے ہرمز کو بدستور بند رکھا جائے گا، جبکہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایرانی حکام کے مطابق موجودہ کشیدگی کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر عائد ہوتی ہے۔

ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر Khatam al-Anbiya Central Headquarters کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال امریکی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی فوجی کارروائیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

ذوالفقاری نے تجارتی جہازوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ جنگی حالات میں ایران کے بحری قوانین کی پابندی کریں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے حالیہ کارروائی میں ڈرون اور مختلف قسم کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے جن میں فتح، خیبر شکن، قدر اور عماد میزائل شامل تھے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کے دوران خطے میں امریکی فوجی اہداف، خصوصاً امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے سے متعلق تنصیبات اور دیگر فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی کے ساتھ اسرائیل کے بعض اہداف کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں میں شامل کیا گیا۔

توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر اس کی توانائی کی تنصیبات یا بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے کے تیل اور گیس کے اہم مراکز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر کے مطابق اسرائیل کے بڑے گیس فیلڈز Leviathan gas field اور Karish gas field اب ایرانی میزائلوں کی حد میں آ چکے ہیں۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ایسے جدید میزائل بھی موجود ہیں جو اب تک استعمال نہیں کیے گئے اور ملک طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات

یاد رہے کہ ایران نے 2 مارچ کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی اثر پڑا۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی مزید بڑھی اور آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور خطے کے استحکام پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button