
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایک انتہائی حساس اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی فوج کی اعلیٰ قیادت نے امریکہ اور عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی جوہری ٹیکنالوجی اس قدر مستحکم ہو چکی ہے کہ اب اسے کسی بھی فوجی کارروائی یا دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
جوہری پروگرام اور عالمی دباؤ حالیہ بیانات میں ایرانی آرمی چیف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے اہداف پر امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے شدید دباؤ موجود ہے۔ مغربی ممالک مسلسل پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے تہران کو اس کے جوہری مقاصد سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایران اپنے دفاعی اور سائنسی مؤقف پر سختی سے قائم ہے۔

تہران پر حملے کی صورت میں ریڈ لائن اس رپورٹ کا سب سے خطرناک پہلو وہ انتباہ ہے جس نے عالمی دارالحکومتوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اہم دفاعی رپورٹس اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں نے تہران پر براہ راست فوجی حملہ کرنے کی غلطی کی، تو ایران کا جواب روایتی نہیں ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق، جنگ چھڑنے کی صورت میں ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) فوری طور پر اپنی پہلی جوہری صلاحیتوں کا باضابطہ تجربہ کر سکتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق، عین جنگ کے دوران ایٹمی تجربہ کرنے کی دھمکی دراصل ‘ڈیٹرنس’ (Deterrence) کی وہ آخری سطح ہے، جس کا مقصد امریکہ کو کسی بھی قسم کی براہ راست مہم جوئی سے باز رکھنا ہے۔
پس منظر اور عالمی اثرات (تجزیہ) یاد رہے کہ 2015 کے عالمی جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد، ایران نے اپنی یورینیم افزودگی کی سطح کو تیزی سے بڑھایا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ ایران کے پاس اتنی افزودہ یورینیم موجود ہے کہ وہ چاہے تو چند ہفتوں میں جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔
اگرچہ تہران ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن توانائی کے حصول کے لیے ہے، لیکن حالیہ فوجی وارننگ نے اس خطے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے، جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی تیسری عالمی جنگ اور ایک خوفناک ایٹمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔



