ایرانتازہ ترین

ایران امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا، علی لاریجانی کا واضح اعلان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کی اعلیٰ سلامتی قیادت نے ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں کر رہا اور نہ ہی اس کا ارادہ رکھتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری بیان میں علی لاریجانی نے ان رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران پسِ پردہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی خبریں بے بنیاد ہیں اور ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

پس منظر: کشیدہ تعلقات

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے، اقتصادی پابندیوں اور خطے میں عسکری سرگرمیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور بعض سکیورٹی واقعات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی حالات غیر یقینی کا شکار ہیں۔

عالمی ردِعمل اور ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار کا اثر عالمی منڈیوں اور سفارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، اور کسی بھی قسم کی سفارتی تعطل خطے میں مزید تناؤ کو جنم دے سکتا ہے۔

دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے بالآخر سفارتی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہوگا، تاہم فی الحال ایران کا مؤقف سخت دکھائی دیتا ہے۔

پیر کے روز علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک پیغام میں ان تمام قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ تہران، واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

لاریجانی نے اپنے مختصر مگر جامع پیغام میں واضح الفاظ میں لکھا کہ "ایران، امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔”

پس منظر اور اہمیت:

علی لاریجانی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شاید دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ کوئی رابطہ کاری ہو رہی ہے تاکہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کے اس بیان نے ان تمام امیدوں پر فی الحال مکمل روک لگا دی ہے۔

Show More

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button