
(تازہ حالات رپورٹ )
ایران اور امریکا کے درمیان متوقع بالواسطہ جوہری مذاکرات سے ایک روز قبل جنیوا ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا، جہاں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے تفصیلی ملاقات کی۔
اطلاعات کے مطابق رافیل گروسی ایرانی وفد کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان “گہرے تکنیکی امور” پر گفتگو ہوئی۔ گروسی نے اس ملاقات کو جنیوا مذاکرات کی تیاری کا اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کی سطح پر سنجیدہ تبادلہ خیال جاری ہے تاکہ باضابطہ سفارتی بات چیت کے لیے بنیاد تیار کی جا سکے۔
ماہرین کی شمولیت اور “نتیجہ خیز حکمت عملی”
ایرانی حکام کے مطابق ملاقات میں ایران کی جوہری ماہرین کی ٹیم بھی شریک تھی، جس نے حساس تکنیکی معاملات پر بریفنگ دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا وفد اس بار صرف سفارتی نمائندوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں اقتصادی، قانونی اور تکنیکی ماہرین بھی شامل ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ جامع ٹیم اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران “نتیجہ خیز اور عملی” مذاکرات کا خواہاں ہے۔
عمان کی ثالثی اور اگلا مرحلہ
ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں عباس عراقچی کی عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی ملاقات متوقع ہے، جو پہلے بھی مسقط میں ہونے والی بات چیت میں رابطہ کاری کا کردار ادا کر چکے ہیں۔

گزشتہ دورِ مذاکرات، جو مسقط میں ہوا تھا، دونوں جانب سے “تعمیری” قرار دیا گیا تھا اور سفارتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ایران کا واضح مؤقف
مذاکرات سے قبل عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے پیغام میں کہا
“میں جنیوا منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے حقیقی تجاویز کے ساتھ آیا ہوں۔ دھمکیوں کے سامنے جھکنا کسی صورت ایجنڈے میں شامل نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا سیاسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو باہمی مفاہمت ممکن ہے۔

پس منظر اور اہمیت
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کے ساتھ تکنیکی سطح پر ہم آہنگی کسی بھی ممکنہ معاہدے کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ جوہری پروگرام کی نگرانی اور شفافیت مستقبل کے کسی بھی سمجھوتے کا مرکزی نکتہ ہوگی۔
جنیوا میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی عمل کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔



