ایرانتازہ ترین

ایران کا امریکی اڈے پر حملہ ۔ 12 امریکی فوجی زخمی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ حملہ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے کیا گیا، جس میں اڈے کے اندر موجود فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حملہ امریکی فوجی تنصیبات پر براہ راست دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔

اس تازہ حملے کے بعد 28 فروری سے شروع ہونے والے تنازع میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد معمولی زخمی ہوئی تھی اور 270 سے زائد اہلکار دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک کم از کم 13 امریکی فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں، جو اس تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب بھی خطے میں مؤثر جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پرنس سلطان ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے لیے ایک اہم مرکز ہے، جہاں سے فضائی آپریشنز اور نگرانی کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ اس اڈے کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران خطے میں امریکی موجودگی کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو آنے والے دنوں میں مزید حملوں اور جوابی کارروائیوں کا امکان موجود ہے۔

موجودہ حالات میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ تنازع محدود رہتا ہے یا مزید شدت اختیار کر کے ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button