ایرانتازہ ترین

ایرانی حملوں میں کویت کا پانی پلانٹ اور یو اے ای کی گیس تنصیب متاثر ہوئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے 35ویں دن خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کویت اور متحدہ عرب امارات میں اہم توانائی اور پانی کی تنصیبات متاثر ہوئیں، جبکہ دیگر ممالک نے بھی حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

Kuwait میں وزارتِ بجلی و پانی کے مطابق ایک پاور اور ڈیسالینیشن پلانٹ کو ایرانی حملے میں نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامی ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہو گئیں اور سسٹم کو فعال رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا، جبکہ دھماکوں کی آوازیں انہی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔

United Arab Emirates کے دارالحکومت ابو ظہبی میں حبشان گیس کمپلیکس کے قریب ملبہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث عارضی طور پر آپریشنز روک دیے گئے۔ حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے حملوں کو کامیابی سے روکا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

Saudi Arabia نے بھی اعلان کیا کہ اس کے دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا، جبکہ Bahrain میں سائرن بجا کر شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دی گئی۔

Qatar نے بھی تصدیق کی کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ قطری وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ پانی، خوراک اور توانائی جیسے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا خطے کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ وہ براہ راست خلیجی ممالک کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر خلیجی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق توانائی اور پانی کے مراکز پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ اب معاشی اور شہری انفراسٹرکچر تک پھیل چکا ہے، جس سے انسانی بحران اور عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خلیجی خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button