ایرانی حملوں کے بعد خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر دباؤ میں، پیٹریاٹ میزائل تیزی سے استعمال

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک اپنے فضائی دفاعی نظام کے تحت پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل بڑی تعداد میں استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کے دفاعی ذخائر پر شدید دباؤ پڑنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی تین دنوں میں خلیجی ممالک نے آنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے تقریباً 800 امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل فائر کیے۔ یہ تعداد یوکرین کے مطابق اس مقدار سے بھی زیادہ ہے جو اس نے گزشتہ چار سال میں روس کے خلاف جنگ کے دوران استعمال کی۔
بعد ازاں یوکرینی حکام نے وضاحت کی کہ یہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر صرف پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپیبلٹی (PAC-2) جیسے مخصوص جدید میزائلوں کے حوالے سے اندازے تھے، نہ کہ تمام اقسام کے دفاعی میزائلوں کے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار خلیج میں جاری فضائی دفاعی سرگرمیوں کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹریاٹ میزائل سسٹم دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت لاکھوں ڈالر تک ہو سکتی ہے، جس کے باعث مسلسل حملوں کے دوران اس کے ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کی رفتار نے خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اگر میزائل اور ڈرون حملوں کی یہی شدت برقرار رہی تو دفاعی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے امریکا اور اتحادیوں کو مزید انٹرسیپٹر میزائل فراہم کرنا پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے فضائی دفاعی نظام کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے، جبکہ اسی کے ساتھ دفاعی ذخائر اور لاجسٹکس کا مسئلہ بھی عالمی سکیورٹی پالیسی میں اہم موضوع بنتا جا رہا ہے۔



