
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل میں حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے کلسٹر میزائلوں میں سے کئی میزائل اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو عبور کر کے مرکزی علاقوں تک پہنچ گئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان میزائلوں میں سے ایک میزائل نے کم از کم 70 چھوٹے بم (سب میونیشنز) فضا میں چھوڑے جو وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں گرے۔
رپورٹس کے مطابق جمعرات کی رات تقریباً 10 بج کر 50 منٹ پر مرکزی اسرائیل میں لاکھوں افراد کے موبائل فونز پر میزائل حملے کی وارننگ جاری کی گئی۔ یہ آدھے گھنٹے کے اندر ایران کی جانب سے ہونے والا دوسرا حملہ تھا۔ چند منٹ بعد سائرن بجنے لگے اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آئیں جن میں آسمان سے درجنوں روشن نقطے نیچے گرتے دکھائی دیے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ دراصل کلسٹر میزائل کا حملہ تھا جس میں ایک بڑے میزائل کے اندر موجود متعدد چھوٹے دھماکہ خیز بم فضا میں پھیل جاتے ہیں اور وسیع علاقے کو نشانہ بناتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان بموں سے املاک کو نقصان پہنچا تاہم اس مخصوص حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

ماہرین کے مطابق کلسٹر ہتھیار اس لیے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ایک ہی میزائل درجنوں چھوٹے دھماکہ خیز مواد کو مختلف مقامات پر گرا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تباہی کا دائرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ شہری علاقوں میں خطرہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ایران کی جانب سے صرف تین کلسٹر میزائل اسرائیل تک پہنچے تھے، تاہم حالیہ جنگی مرحلے میں ایران نے 100 سے زائد ایسے میزائل داغے ہیں جن میں بڑی تعداد میں سب میونیشنز موجود تھیں۔
حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں اسرائیل کے مختلف علاقوں میں جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں اور کم از کم دو افراد کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کلسٹر میزائلوں کا استعمال خطے میں جاری جنگ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔



