
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے شمال مغربی علاقوں میں سرگرم کچھ کرد گروہ ممکنہ طور پر ایران کی حکومت کے خلاف زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی اور اسرائیلی حکام کے ساتھ ساتھ ایک کرد تنظیم کے سینئر عہدیدار نے بھی ایسی تیاریوں کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر یہ کارروائیاں شروع ہوئیں تو انہیں ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں ایران پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں سیاسی یا عوامی ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔
کرد آبادی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ عراق، ترکی اور شام میں بھی بڑی تعداد میں آباد ہے۔ عراق کے نیم خودمختار علاقے عراقی کردستان کو اس خطے میں کرد سیاست اور سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے سرحدی علاقوں میں بھی کرد تنظیمیں کئی دہائیوں سے مختلف سطح پر سرگرم رہی ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے اندر کسی قسم کی زمینی بغاوت یا مسلح کارروائی شروع ہوتی ہے تو یہ موجودہ تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں جنگ صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ داخلی سلامتی اور سرحدی استحکام کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم کئی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایران ایک بڑا اور متنوع ملک ہے جہاں مختلف نسلی اور سیاسی گروہوں کے مفادات مختلف ہیں، اس لیے کسی بڑے پیمانے کی داخلی بغاوت کے امکانات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے اندرونی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور سکیورٹی ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



