تازہ ترینیورپ امریکا

امریکا کا اسلحہ فروخت کرنے کا نیا اصول: زیادہ دفاعی بجٹ والے ممالک کو ترجیح

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت امریکا اپنے ہتھیاروں کی فروخت میں اُن ممالک کو ترجیح دے گا جو اپنے دفاع پر زیادہ خرچ کرتے ہیں اور اپنے خطے میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ امریکی اسلحہ فروشی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔

اس حکم نامے کو “امریکا فرسٹ آرمز ٹرانسفر اسٹریٹجی” کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد امریکی ساختہ ہتھیاروں کی ترسیل کو تیز کرنا اور انہیں اُن اتحادی ممالک تک پہلے پہنچانا ہے جو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں سنجیدہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اگرچہ کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق اس پالیسی سے نیٹو اور دیگر اہم اتحادی براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ہتھیاروں کی فروخت امریکی قومی مفادات کے مطابق کی جائے گی، اور غیر ملکی خریداریوں کو امریکی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس حکمتِ عملی کے تحت امریکی محکمۂ دفاع، محکمۂ خارجہ اور محکمۂ تجارت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ترجیحی ہتھیاروں اور نظاموں کی ایک فہرست تیار کریں۔

اب تک امریکی اسلحہ فروخت کا نظام زیادہ تر “پہلے آؤ، پہلے پاؤ” کی بنیاد پر چلتا رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی بار پیداوار میں تاخیر اور ترسیل کے مسائل پیدا ہوئے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پرانی پالیسی کے باعث آرڈرز اور امریکی فیکٹریوں کی صلاحیت میں توازن نہیں رہتا تھا، جس سے بیک لاگ بڑھتا گیا۔

نئی پالیسی کے تحت بیوروکریٹک عمل کو بھی آسان بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، تاکہ ہتھیاروں کی فروخت، نگرانی اور تیسرے فریق کو منتقلی جیسے مراحل میں تاخیر کم کی جا سکے اور شفافیت بہتر ہو۔

یاد رہے کہ 2025 میں نیٹو کے رہنماؤں نے دفاعی اخراجات کا نیا ہدف مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 5 فیصد مقرر کرنے کی حمایت کی تھی اور اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام نہ صرف امریکا کی دفاعی صنعت کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ جو ممالک اپنی سلامتی کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کریں گے، وہی امریکی اسلحہ مارکیٹ میں ترجیح پائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button