ایرانتازہ ترین

ایرانی ڈرون حملہ: دبئی ایئرپورٹ کے قریب ایندھن ٹینک میں آگ، پروازیں عارضی طور پر معطل

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ایک ڈرون حملے کے بعد دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ٹینک میں بڑی آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ہوائی اڈے کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہو گئیں۔ حکام کے مطابق حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر کچھ دیر کے لیے پروازیں معطل کر دی گئیں جبکہ کئی فلائٹس کو متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا۔

اماراتی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چار بجے پیش آیا جب ایک ڈرون ایئرپورٹ کے قریب واقع فیول ٹینک کے علاقے میں گرا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور سیاہ دھوئیں کے بادل دور تک دکھائی دیے۔ حکام نے بتایا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نقصان محدود نوعیت کا رہا۔

واقعے کے بعد کئی بین الاقوامی پروازوں کو راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ آسٹریلیا اور بھارت سمیت مختلف ممالک سے آنے والی کچھ فلائٹس کو یا تو واپس موڑ دیا گیا یا قریبی المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا۔ چند گھنٹوں بعد آگ پر قابو پا لیا گیا اور دبئی ایئرپورٹ پر محدود پیمانے پر پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جاری فوجی اقدامات کے بعد خلیجی خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ملک کی فضائی دفاعی نظام نے ہزاروں ڈرونز کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو کے اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کی حفاظت میں امریکا کی مدد نہ کریں تو اتحاد کو مستقبل میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس اہم سمندری راستے کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف توانائی کی عالمی سپلائی بلکہ بین الاقوامی فضائی سفر اور تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ادھر خلیج کے دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فجیرہ آئل انڈسٹری زون کے قریب بھی ایک ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جسے قابو میں لانے کے لیے ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کی۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button