امریکاتازہ ترین

ایرانی ڈرونز امریکی دفاعی نظام کے لیے بڑا چیلنج بن گئے، امریکی حکام کا اعتراف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی حکام نے قانون سازوں کو دی گئی ایک بند کمرہ بریفنگ میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کے شاہد (Shahed) حملہ آور ڈرونز امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے تسلیم کیا کہ یہ ڈرونز توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ڈرونز عام میزائلوں کے مقابلے میں زیادہ نیچی اور سست رفتار پر پرواز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روایتی فضائی دفاعی نظام سے بروقت نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی خصوصیت انہیں بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں بعض صورتوں میں زیادہ مؤثر بنا دیتی ہے۔

ڈرون حملوں کی بڑی صلاحیت

بریفنگ میں شامل ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس بڑی تعداد میں ڈرون اور میزائل تیار کرنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ امریکی سینیٹر مارک کیلی نے خبردار کیا کہ امریکہ کے پاس فضائی دفاعی میزائلوں کا لامحدود ذخیرہ موجود نہیں ہے، جبکہ ایران بڑی تعداد میں ڈرون اور مختلف رینج کے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو مسئلہ صرف عسکری نہیں بلکہ ریاضیاتی بھی بن جائے گا، یعنی سوال یہ ہوگا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے فضائی دفاعی میزائلوں کی سپلائی کو کتنے عرصے تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔

امریکی سیاست میں بھی بحث

امریکی ایوان نمائندگان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ابھی تک واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ جنگ شروع کرنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ ان کے مطابق امریکہ کے خلاف کسی فوری خطرے کے ٹھوس شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔

دوسری جانب ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی خطے میں امریکی فوجی مداخلت کو ایک خطرناک آپریشن قرار دیا۔

میزائل اور ڈرون حملوں کا دباؤ

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کی متعدد لہریں شروع کی ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف امریکی فوجی اہداف بلکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔

ایک دفاعی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران کے بعض جدید ہتھیار، خصوصاً فتح-2 ہائپرسونک میزائل، موجودہ اینٹی میزائل نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں کیونکہ ان کی رفتار اور پرواز کا طریقہ انہیں روکنا مشکل بنا دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے مسلسل ڈرون اور میزائل حملے نہ صرف خطے میں فوجی توازن کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دفاعی نظام پر بھی شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button