امریکاتازہ ترین

امریکا کا شام سے مکمل فوجی انخلا، 10 سالہ مشن کا اختتام

واشنگٹن / دمشق(تازہ حالات رپورٹ ): امریکی انتظامیہ نے شام سے اپنے تمام فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت تقریباً ایک ہزار امریکی اہلکار آئندہ دو ماہ کے اندر مکمل طور پر واپس بلا لیے جائیں گے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایک دہائی پر محیط فوجی مشن کے اختتام کی علامت ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی پہلے ہی شام کے کئی اہم اڈوں سے نکل چکے ہیں، جبکہ باقی انخلا مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی سے متعلق نہیں بلکہ زمینی حقائق میں تبدیلی کے باعث کیا جا رہا ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی موجودگی بنیادی طور پر داعش کے خلاف کارروائیوں اور مقامی اتحادی فورسز کی معاونت کے لیے تھی۔ تاہم اب شام کی ڈیموکریٹک فورسز (SDF/YPG) کے بڑے حصے کے تحلیل ہو کر صدر احمد الشّرعہ کی قیادت میں شامی فوج میں ضم ہونے کے بعد واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ براہِ راست امریکی فوجی موجودگی کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکی انخلا سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر شمالی اور مشرقی شام میں جہاں گزشتہ برسوں سے امریکی فوجی موجودگی اہم کردار ادا کر رہی تھی۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے روس، ترکی اور ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ شام کی مرکزی حکومت کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ امریکا سفارتی سطح پر شام کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور خطے میں استحکام کے لیے دیگر راستے اختیار کرے گا۔

یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ امریکا نے 2015 کے بعد سے شام میں اپنی فوجی موجودگی کو دہشت گردی کے خلاف عالمی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکی انخلا کے بعد شام اور وسیع تر خطے کی سکیورٹی صورتحال کس سمت جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button