ایرانتازہ ترین

ایران کے مسلسل میزائل حملے: اسرائیل بھر میں سائرن گونج اٹھے، رہائشی عمارت کو نقصان

اسرائیل میں جمعہ کی صبح ایران کی جانب سے مسلسل میزائل حملوں کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام کے مطابق یہ حملے کئی مراحل میں کیے گئے اور یروشلم، وسطی اسرائیل اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق صبح کے اوقات میں کم از کم چار مختلف لہروں میں میزائل فائر کیے گئے، جن کے بعد وقفے وقفے سے سائرن بجتے رہے۔ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم بعض مقامات پر ان کے ٹکڑے (شریپنل) زمین پر گرے۔

مرکزی شہر ریہووت میں ایک رہائشی عمارت پر میزائل کا ملبہ گرنے سے نقصان ہوا، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

ایمرجنسی سروسز کے مطابق چند افراد کو معمولی چوٹیں آئیں، جن میں ایک معمر خاتون بھی شامل ہیں جو پناہ گاہ کی طرف جاتے ہوئے زخمی ہوئیں۔ دیگر افراد بھی سائرن کے دوران بھاگتے ہوئے معمولی زخمی ہوئے۔

اسرائیلی پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹس نے مختلف علاقوں میں گرنے والے غیر پھٹے ہوئے مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر کلسٹر بموں کے ٹکڑوں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ یہ انتہائی حساس اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب حیفہ میں واقع بازان آئل ریفائنری میں بھی مزید نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں گزشتہ حملوں کے بعد شریپنل گرنے سے تنصیبات متاثر ہوئیں۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ علاقے میں کنٹرولڈ دھماکوں کے ذریعے خطرناک مواد کو تلف کیا جائے گا۔

ایرانی حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے تہران سمیت مختلف مقامات پر جوابی فضائی حملے بھی کیے ہیں، جن میں ایرانی عسکری اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، کیونکہ میزائل حملوں کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں فریق مسلسل اور منظم حملوں کے ذریعے ایک دوسرے پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، جبکہ عام شہری اس کشیدگی کا براہِ راست اثر محسوس کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button