امریکاایرانتازہ ترین

ایران پر امریکا اور اسرائیل کا بڑا مشترکہ حملہ: تہران سمیت متعدد شہر دھماکوں سے لرز اٹھے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مشترکہ کارروائی شروع کر دی۔ دارالحکومت تہران سمیت قم، اصفہان، کرمانشاہ، کرج اور ایلام میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ مختلف شہروں میں فضائی دفاعی نظام کو متحرک دیکھا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں نئے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے مغربی ایران کے شہر ایلام کے اطراف میں بھی دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے، جنہیں روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ شمالی اسرائیل کے وسیع علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل حملوں کی ایک لہر کو ناکام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایرانی عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال “انتہائی خطرناک” ہے۔ انہوں نے پاسدارانِ انقلاب، مسلح افواج اور پولیس اہلکاروں کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں “مکمل استثنیٰ” دینے کی پیشکش بھی کی، بصورت دیگر سخت نتائج کی وارننگ دی۔

ادھر رائٹرز نے ایک ایرانی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران “سخت اور فیصلہ کن جواب” کی تیاری کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں ایرانی عوام کو “اپنا مستقبل خود طے کرنے” کا موقع فراہم کریں گی، جبکہ ایران نے ان بیانات کو بیرونی مداخلت قرار دیا ہے۔

علاقائی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ قطر کی وزارت داخلہ نے بیان جاری کیا کہ ملک کی اندرونی سکیورٹی صورتحال مستحکم ہے اور فی الحال کسی غیر معمولی خطرے کے شواہد نہیں ملے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں وسیع تر تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور سفارتی محاذ پر اس بحران کے اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا کشیدگی محدود رہتی ہے یا ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button