
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیج کے حساس سمندری علاقے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ایک نئے واقعے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایک ایرانی کشتی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ امریکی طیارہ بردار جہاز کے قریب آ گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی کشتی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln کے قریب آ گئی۔ امریکی حکام کے مطابق اس حرکت کو سکیورٹی خطرہ سمجھتے ہوئے فوری ردعمل دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک جہاز نے ابتدائی طور پر ایرانی کشتی کو روکنے کے لیے Mark-45 بحری توپ سے فائرنگ کی کوشش کی، تاہم کئی گولے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

بعد ازاں امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے کارروائی کرتے ہوئے Hellfire میزائل فائر کیے، جن میں سے دو میزائل ایرانی کشتی کو لگنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ واقعے کے نتیجے میں کشتی کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں تاہم جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب Iran اور United States کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج اور Strait of Hormuz جیسے اہم سمندری راستوں میں اس قسم کے واقعات عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے میں ہونے والی ہر فوجی سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سمندری محاذ پر کسی بھی چھوٹے واقعے کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔



