(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
لندن: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے نئے نظام نے عالمی توانائی مارکیٹ اور سمندری تجارت کے مستقبل پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام برقرار رہا تو نہ صرف ایران کو اربوں ڈالر کی آمدنی ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب تیل بردار جہازوں کو براہ راست گزرنے کے بجائے ایران کے قریب مخصوص راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جہاں انہیں پہلے اپنی معلومات فراہم کرنی ہوتی ہیں، جن میں کارگو، منزل اور ملکیت شامل ہوتی ہے۔ اس کے بعد ایک پیچیدہ عمل کے ذریعے فیس طے کی جاتی ہے، جو کم از کم ایک ڈالر فی بیرل سے شروع ہو کر زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک عام آئل ٹینکر کو اس راستے سے گزرنے کے لیے اوسطاً تقریباً 20 لاکھ ڈالر تک ادا کرنا پڑ سکتے ہیں، اور ادائیگی چینی کرنسی یا کرپٹو کرنسی میں کی جاتی ہے۔ منظوری کے بعد ایرانی بحریہ یا متعلقہ ادارے جہاز کو اس راستے سے گزرنے کے لیے سکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام دراصل ایران کی جانب سے ایک نیا معاشی دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ عالمی توانائی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے “ٹول بوتھ” قرار دیا ہے، جو عالمی معیشت کو ایک نئی شکل دے سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہو۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اس کی فوج کے ساتھ ہم آہنگی میں گزرنا ہوگا، جس سے مکمل آزادانہ آمدورفت ممکن نہیں رہتی۔
خلیجی ممالک میں اس صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ کئی ممالک اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے مکمل طور پر اسی بحری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام طویل عرصے تک برقرار رہا تو یہ ممالک متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، تاہم فوری طور پر ایسے آپشنز محدود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ حکمت عملی اسے عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کا ایک نیا ذریعہ فراہم کر سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں دیگر طاقتیں اس نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں گی کیونکہ یہ عالمی تجارت کے اصولوں سے متصادم ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے توازن کا ایک مرکزی نقطہ بن چکا ہے، جہاں ہونے والی ہر پیش رفت کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔