
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تل ابیب: ایران کی جانب سے کلسٹر وارہیڈز سے لیس بیلسٹک میزائلوں کے استعمال نے اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ تازہ حملوں میں ایک میزائل کو روکنے میں ناکامی کے بعد اس کے چھوٹے بم شہری علاقوں میں بکھر گئے، جس کے نتیجے میں ایک بزرگ جوڑا ہلاک جبکہ اہم انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، بدھ کے روز تل ابیب میں ہونے والے حملے میں ایک میزائل کے ٹکڑے فضا میں پھٹ کر متعدد چھوٹے دھماکہ خیز بموں میں تبدیل ہو گئے، جو مختلف مقامات پر گرے۔ ان میں سے ایک بم ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں گرا، جہاں 70 سال سے زائد عمر کے میاں بیوی جان کی بازی ہار گئے۔ حملے کے نتیجے میں شہر کے ایک مرکزی ریلوے اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے الزام عائد کیا کہ ایران نے جان بوجھ کر گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، “یہ کارروائیاں شہریوں کے خلاف ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔”

کلسٹر بم کیا ہوتے ہیں اور کیوں خطرناک ہیں؟
ماہرین کے مطابق کلسٹر میزائل فضا میں پھٹ کر درجنوں چھوٹے بم (سب میونیشنز) پھیلا دیتے ہیں، جو وسیع علاقے کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی فوری طور پر نہیں پھٹتے اور بعد میں بارودی سرنگوں جیسا خطرہ بن جاتے ہیں، جس سے عام شہریوں، خصوصاً بچوں کے لیے شدید خطرات پیدا ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر 2008 میں ڈبلن میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت 100 سے زائد ممالک نے کلسٹر ہتھیاروں پر پابندی عائد کی، تاہم ایران، اسرائیل، امریکہ، چین اور روس اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
اسرائیلی دفاعی نظام کو درپیش چیلنج
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل کلسٹر وارہیڈز کے ساتھ داغے جا رہے ہیں۔ ہر میزائل میں تقریباً 20 سے زائد چھوٹے بم ہوتے ہیں، جو زمین سے 7 سے 10 کلومیٹر کی بلندی پر الگ ہو کر مختلف سمتوں میں پھیل جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کو مؤثر طریقے سے روکنے کے لیے انہیں فضا سے باہر یا انتہائی بلندی پر ہی تباہ کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ایک بار چھوٹے بم الگ ہو جائیں تو انہیں روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

اسرائیل کا جدید “ایرو-3” دفاعی نظام زیادہ تر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم حالیہ واقعے نے اس نظام کی حدود کو بھی واضح کر دیا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جدید اور پیچیدہ ہتھیاروں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے میزائل لانچنگ مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ حملوں کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے، جبکہ شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سائرن، شیلٹرز اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



