ایرانتازہ ترین

ایران کے کلسٹر میزائل اسرائیل میں وسیع علاقے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران کی جانب سے ایسے بیلسٹک میزائل استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب ہوتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ میزائل فضا سے نیچے آتے ہوئے متعدد چھوٹے دھماکہ خیز بم مختلف سمتوں میں پھیلا دیتے ہیں، جس کے باعث ایک وسیع علاقہ خطرے کی زد میں آ جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج (IDF) کے مطابق ان میزائلوں کا وارہیڈ زمین کی طرف آتے ہوئے کھل جاتا ہے اور اس میں موجود تقریباً 20 چھوٹے بم مختلف سمتوں میں بکھر جاتے ہیں۔ ہر چھوٹے بم میں تقریباً 2.5 کلوگرام دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے اور یہ تقریباً آٹھ کلومیٹر کے دائرے میں گر سکتے ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے بم کسی خاص ہدف کی طرف رہنمائی نہیں رکھتے بلکہ زمین پر گرتے ہی پھٹنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک بڑے علاقے میں بے ترتیب نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق موجودہ جنگ کے دوران ایران نے کئی مرتبہ ایسے میزائل داغے ہیں جن میں کلسٹر وارہیڈ استعمال کیا گیا۔ اسی طرح 2025 میں ہونے والے ایک سابقہ تنازع میں بھی ایسے ہتھیار استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے اتحادی حوثی گروپ نے بھی ماضی میں اسی نوعیت کے میزائل استعمال کیے تھے۔

طبی امدادی اداروں کے مطابق حالیہ حملوں میں وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں کلسٹر بم کے ٹکڑے گرنے سے کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان بموں سے ہونے والا نقصان عام طور پر چھوٹے راکٹ جیسا ہوتا ہے، تاہم ان کی اصل خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک بڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے روایتی بیلسٹک میزائلوں میں عموماً تقریباً 500 کلوگرام تک دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے جو ایک جگہ پر بڑا دھماکہ کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کلسٹر میزائلوں میں دھماکے نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں مگر وہ ایک وسیع علاقے کو متاثر کرتے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی کو زمین پر میزائل یا بم کا کوئی حصہ نظر آئے تو اس کے قریب نہ جائیں۔ فوج کے مطابق بعض کلسٹر بم زمین پر گرنے کے بعد فوراً نہیں پھٹتے اور وہ بعد میں بھی دھماکہ کر سکتے ہیں، جس کے باعث وہ بارودی سرنگوں کی طرح خطرناک بن جاتے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار جنگ کے بعد بھی شہریوں کے لیے خطرہ بنے رہتے ہیں کیونکہ ان کے کئی چھوٹے بم غیر پھٹے رہ جاتے ہیں۔

2008 میں ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت 112 ممالک نے کلسٹر بموں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور استعمال پر پابندی لگانے کا عہد کیا تھا۔ تاہم ایران اور اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں جدید میزائل ٹیکنالوجی کے استعمال نے نہ صرف فوجی بلکہ انسانی اور شہری سلامتی کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال جاری رہا تو شہری علاقوں کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button