تہران (نیوز ڈیسک): مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے تناظر میں، ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دشمن کی طاقت اور برتری کے دعوے محض افسانہ ہیں اور ان کی شکست ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور اسلامی جمہوری نظام کے دفاع کے لیے آخری سانس تک لڑیں گی۔
‘ناقابل تسخیر ہونے کا جھوٹا دعویٰ’
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف یونیورسٹی میں گریجویشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل حاتمی نے کہا کہ موجودہ حالات میں فوج کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

انہوں نے دشمن (امریکہ) کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے "جھوٹا اور بے بنیاد” قرار دیا۔ جنرل حاتمی نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے کہا، "یہی دشمن ویتنام اور افغانستان میں 20 سال تک جنگ لڑتا رہا اور آخر کار اسے ذلت کے ساتھ وہاں سے نکلنا پڑا۔ عراق اور دیگر ممالک میں بھی اسے اسی انجام کا سامنا کرنا پڑا۔” ان کا کہنا تھا کہ وہ دھمکیوں اور رعب کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں لیکن شکست کھا کر لوٹتے ہیں۔
‘ہائبرڈ وار’ اور غیر یقینی صورتحال
موجودہ دور کو "غیر یقینی کی کیفیت” قرار دیتے ہوئے، ایرانی آرمی چیف نے خبردار کیا کہ آج کی جنگ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک ایسی "ہائبرڈ وار” (مخلوط جنگ) کا سامنا ہے جو صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ یہ سیاسی، اقتصادی، سماجی، نفسیاتی اور ادراکی (cognitive) محاذوں تک پھیلی ہوئی ہے، یہاں تک کہ یہ اب خاندانوں اور بچوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دشمن دھمکیوں اور محدود آپریشنز کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے، اور اس کثیر الجہتی جنگ کا مقابلہ صرف شعور، درست سمجھ بوجھ اور حالات کے مکمل ادراک سے ہی ممکن ہے۔
‘گریٹر ایران کو نگلنے نہیں دیں گے’
جنرل حاتمی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دشمن ایران کو بتدریج کمزور کرنے اور عوام کو تھکانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن "گریٹر ایران” کو کسی صورت نگلنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم کمزور پوزیشن میں ہیں اور وہ طاقتور ہیں، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ "آج ایران کے پاس لاکھوں ایسے سپاہی موجود ہیں جو وطن کے لیے جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔”

پس منظر: مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا تناؤ
ایرانی آرمی چیف کے یہ سخت بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوری 2026 کے اواخر سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ اپنے عروج پر ہے۔ واشگٹن نے تہران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے حامی گروہوں کے تنازع پر خطے میں اپنی فوجی موجودگی نمایاں طور پر بڑھا دی ہے، جس میں ‘ابراہام لنکن’ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور اضافی فضائی و میزائل فورسز کی تعیناتی شامل ہے۔
دوسری جانب، ایران نے بھی واضح طور پر دھمکی دی ہے کہ اگر اس پر کوئی فوجی کارروائی کی گئی تو وہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جبکہ تناؤ کے اس ماحول میں جوہری مذاکرات بھی دباؤ کا شکار ہیں۔



