ایرانتازہ ترین

ایران کی معاشی جنگ: خلیجی مالیاتی مراکز اور عالمی تجارت نشانے پر

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے دوران ایران نے عسکری اہداف کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی مراکز کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جسے بعض ماہرین ایک “معاشی جنگ” کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کا مقصد خطے کی مضبوط معیشتوں اور عالمی تجارت کے اہم مراکز پر دباؤ ڈال کر امریکا اور اسرائیل کے خلاف طویل المدت مقابلہ کرنا ہے۔

حالیہ حملوں میں متحدہ عرب امارات کے دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قریب ایک ڈرون حملہ رپورٹ ہوا جس کے نتیجے میں ایک عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔ اس مالیاتی ضلع میں دنیا کے بڑے بینک اور عالمی کمپنیاں موجود ہیں، جن میں متعدد بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور لگژری ہوٹل بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں موجود مختلف اقتصادی اور تکنیکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان میں ڈیٹا سینٹرز، بندرگاہیں، ہوٹل، ہوائی اڈے اور دیگر تجارتی انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات اور بحرین میں موجود بڑے ٹیکنالوجی ڈیٹا سینٹرز بھی ایرانی حملوں کے اہداف میں شامل رہے۔

ایران کی جانب سے جاری بیانات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس پر مزید حملے کیے گئے تو خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ مالیاتی اداروں اور بینکوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد خلیجی ممالک کے مالیاتی مراکز میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے ہٹا کر مالیات، تجارت، سیاحت اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تیزی سے ترقی دی ہے۔ دبئی اور دوحہ جیسے شہر عالمی سرمایہ کاری اور تجارت کے اہم مراکز بن چکے ہیں، جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار اور کاروباری ادارے سرگرم ہیں۔

تاہم حالیہ حملوں نے خطے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ بعض بین الاقوامی بینکوں اور کمپنیوں نے اپنے عملے کو عارضی طور پر گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ کچھ سرمایہ کار خطے میں اپنے کاروباری خطرات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ حکمت عملی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جدید عالمی معیشت میں توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مالیاتی مراکز انتہائی حساس اہداف بن چکے ہیں۔ اگر ان پر محدود حملے بھی کامیاب ہو جائیں تو عالمی سپلائی چین، تجارت اور سرمایہ کاری کے نظام پر بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو خلیجی ممالک اور عالمی کمپنیوں کو اپنے کاروباری منصوبوں اور سپلائی چین کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔ تاہم کئی مبصرین کا خیال ہے کہ خطے کی مضبوط معیشتیں اور بنیادی ڈھانچہ طویل مدت میں دوبارہ استحکام حاصل کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button