
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے جمعہ کی صبح ایران کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کے مطابق ان کارروائیوں میں تہران سمیت متعدد اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ترجمان علی محمد نائینی ہلاک ہو گئے ہیں، جسے حالیہ کشیدگی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ دیگر متاثرہ شہروں میں پارچین، کرمان، اراک اور بندر لنگہ شامل ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں بیلسٹک میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کی صلاحیت کو کم کرنا اور خطے میں فضائی برتری حاصل کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی ایران کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی حالیہ دنوں میں ایران کے کاراج میزائل پلانٹ پر کیے گئے حملے کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں، جن میں واضح طور پر تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ حملہ 11 مارچ کو کیا گیا تھا اور اسے ایران کے میزائل پروگرام کے خلاف ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

ان حملوں کے انسانی اثرات بھی شدید سامنے آئے ہیں۔ ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق 28 فروری سے جاری فوجی کارروائیوں میں اب تک 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم 1,394 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں 200 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے اندر براہِ راست کارروائیاں خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات کو بڑھا رہی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک ان حملوں کو دفاعی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید گہرا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کئی ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے پر زور دیا ہے۔



