
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )قطر کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملکی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر دو ایرانی سخوئی 24 (Su-24) جنگی طیاروں کو مار گرایا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان یا زمینی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ تکنیکی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہفتے کے روز شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے مبینہ طور پر ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کا رخ بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان سمیت مختلف خلیجی ممالک کی جانب بتایا جا رہا ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق سیٹلائٹ اور عسکری انٹیلی جنس رپورٹس میں ایرانی سرزمین سے خلیجی خطے کی طرف متعدد میزائل اور ڈرون داغے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قطر کی جانب سے جنگی طیاروں کو مار گرانا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ خلیجی ریاستیں اب براہِ راست فوجی ردعمل دینے کے لیے تیار ہیں۔
قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی اور جوابی کارروائی
قطری وزارتِ دفاع نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام (Air Defense) نے دو ایرانی Su-24 جنگی طیاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ قطری حدود میں داخل ہوئے۔ اگرچہ اس کارروائی میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم قطر کی جانب سے یہ ایک غیر معمولی اور سخت ترین ردِعمل ہے۔
خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کا سلسلہ
گزشتہ ہفتے کے اختتام سے، یعنی 29 فروری 2026 کو جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا ہے، خلیجی ریاستیں مسلسل ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔
- نشانے پر موجود ممالک: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، عمان اور قطر کو مسلسل فضائی خطرات کا سامنا ہے۔
- حملوں کی شدت: سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس معلومات نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی سرزمین سے خلیجی ممالک کی جانب درجنوں ڈرون اور میزائل داغے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فضائی جھڑپوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو خطہ محدود حملوں سے نکل کر باقاعدہ علاقائی تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں تقریباً پانچ لاکھ مقامی اور غیر ملکی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ سکیورٹی الرٹ کی سطح بلند کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق صورتحال نہ صرف عسکری بلکہ معاشی اثرات بھی مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی تنصیبات، فضائی آمدورفت اور بندرگاہی سرگرمیاں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے تحمل اور سفارتی حل کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔



